اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ﴾ [الْمَائِدَةُ:۸۹]
“اور تم اپنی قسموں کی حفاظت کرو”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: "قسم سامان بیچنے کے لیے مفید تو ہے، مگر اس سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔" اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔
اور سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالی نہ بات کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا: ایک بوڑھا زانی، دوسرا گھمنڈی فقیر اور تیسرا وہ شخص جس نے اللہ کو ہی اپنا سامان تجارت بنالیا ہو، بایں طور کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر خریدے اور اس کی قسم کھا کر ہی بیچے۔" طبرانی نے اسے بسند صحیح روایت کیا ہے۔
اور صحیح میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔" عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی، جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی, خیانت کریں گے سوان پر بھروسہ نہیں کیا جائے گا, نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے اور ان کے اندر مٹاپا عام ہو جائے گا۔
اسی صحیح میں طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا، جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔"
﴿وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ﴾ [الْمَائِدَةُ:۸۹]
“اور تم اپنی قسموں کی حفاظت کرو”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: "قسم سامان بیچنے کے لیے مفید تو ہے، مگر اس سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔" اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔
اور سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالی نہ بات کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا: ایک بوڑھا زانی، دوسرا گھمنڈی فقیر اور تیسرا وہ شخص جس نے اللہ کو ہی اپنا سامان تجارت بنالیا ہو، بایں طور کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر خریدے اور اس کی قسم کھا کر ہی بیچے۔" طبرانی نے اسے بسند صحیح روایت کیا ہے۔
اور صحیح میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔" عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی، جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی, خیانت کریں گے سوان پر بھروسہ نہیں کیا جائے گا, نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے اور ان کے اندر مٹاپا عام ہو جائے گا۔
اسی صحیح میں طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا، جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔"
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب ہم بچے تھے، تو ہمارے بڑے بزرگ گواہی دینے اور عہد و پیمان کرنے پر ہمیں مارتے تھے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں قسموں کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔
دوسرا مسئلہ: یہاں بتایا گیا ہے کہ قسم کھانا سامانِ تجارت کو بیچنے کے لیے تو مفید ہے، تاہم اس سے برکت جاتی رہتی ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس میں قسمیں کھا کر خرید و فروخت کرنے والے کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر گناہ کے اسباب معمولی ہوں تو گناہ بڑا ہو جاتا ہے۔
پانچواں مسئلہ: اُن لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو بغیر مطالبہ کے قسمیں کھاتے رہتے ہیں۔
چھٹا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین یا چار زمانوں کی تعریف کی ہے اور اس کے بعد جو کچھ ہو گا اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔
ساتواں مسئلہ: ان لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیتے ہیں۔
آٹھواں مسئلہ: سلفِ صالحین چھوٹے بچوں کو ﴿خواہ مخواہ﴾ گواہی دینے اور عہد و پیمان کرنے پر مارا کرتے تھے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم
← پچھلا باب
باب: تصویر بنانے والوں کا حکم