جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نُشرہ ﴿جادو کے ذریعہ جادو کے علاج﴾ کے متعلق دریافت کیا گیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ شیطانی عمل ہے۔"اسے امام احمد نے بسند جید اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔امام ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس عمل کے بارے میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا،تو انہوں نے جواب دیا:ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس طرح کے سارے کاموں کو حرام قرار دیا کرتے تھے۔
اور صحیح بخاری میں قتادہ مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسیّب سے پوچھا کہ اگر کسی پر جادو کر دیا جائے،یا جادو ٹونا کے ذریعے اس کو اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے روک دیا جائے،تو کیا اس کے جادو کو کھولا جائے گا یا اس کا علاج کیا جائے گا؟تو انہوں نے جواب دیا:"اس میں کوئی حرج نہیں،کیوں کہ اس کا مقصد اصلاح ہے۔جو مفید ہو،اس کی ممانعت نہیں ہے۔"
حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے،وہ کہتے ہیں:‘‘جادو کو جادو گر ہی اتار سکتا ہے‘‘۔
علامہ ابن القیّم کہتے ہیں:«سحر زدہ سے جادو کو دور کرنا نشرہ کہلاتا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: جادو کو جادو ہی سے ختم کرنا۔ ایسی صورت میں یہ ایک شیطانی عمل ہے اور حسن بصری رحمہ اللہ کے قول کو اسی پر محمول کیا جائے گا۔اس طرح جادو دور کرنے والا اور جادو سے متاثر دونوں شیطان کا تقرّب حاصل کرنے کے لیے اس کی پسند کا کام کرتے ہیں،جس سے شیطان خوش ہو کر سحر زدہ شخص سے اپنا اثر ہٹا لیتا ہے۔
دوسری قسم: یہ ہے کہ دَم، تعوذات،ادویات اور جائز و مباح ادعیہ کے ساتھ جادو کا علاج کیا جائے۔یہ جائز ہے۔»
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: نُشرہ ﴿جادو کا علاج جادو سے کرنے﴾ منع ہے۔
دوسرا مسئلہ: یہاں ممنوع اور جائز علاج میں اس طرح فرق بتایا گیا ہے کہ کوئی اشکال باقی نہیں رہ جاتا۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس