صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے، تو ہم 'السَّلامُ عَلَی اللہِ مِنْ عِبَادِہٖ، السَّلام علی فُلانٍ وفلانٍ' اللہ تعالی پر اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، فلاں فلاں شخص پر بھی سلام ہو کہتے۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم 'السلام علی اللہ' نہ کہو، کیوں کہ اللہ تو خود 'السلام' یعنی سلامتی والا ہے۔
تم 'السلام علی اللہ' نہ کہو، کیوں کہ اللہ تو خود 'السلام' یعنی سلامتی والا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
سلام کی تفسیر و وضاحت بیان ہوئی۔
سلام استقبال کرنا ہے۔
اس لفظ کا استعمال اللہ کے بارے میں درست نہیں ہے۔
اللہ کے لیے اس کا استعمال کیوں درست نہیں ہے، اس کی علّت بھی بیان کی گئی ہے۔
مسلمانوں کو اللہ کے شایان شان تحیّات پڑھنے کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔