اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ اللاَّتَ وَالْعُزَّى (۱۹) وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى (۲۰) أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الأُنْثَى (۲۱) تِلْكَ إذًا قِسْمَةٌ ضِيْزَى (۲۲) إنْ هِيَ إلاَّ أسمَاءٌ سَمَّيتُمُوهَا أنتُمْ وءابآؤكُمْ مَا أنزَلَ اللهُ بها مِن سُلْطَانٍ إن يَتَّبِعُونَ إلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْـوَى الأَنْفُسُ ولقَدْ جَآءهُم مِّن رَّبِّهِـمُ الهُدَى﴾ [النَّجْم:۱۹-۲۳]
“کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا، اور منات تیسرے پچھلے کو؟ کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟ یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے۔ دراصل یہ صرف نام ہیں، جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے۔”
ابوواقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کی طرف نکلے۔ ابھی ہمارے کفر کے دور سے نکلنے کو زیادہ دن نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت مشرکوں کے ہاں ایک بیری کا درخت تھا، جس کے پاس وہ ٹھہرتے تھے اور اس پر اپنے ہتھیار ﴿تبرک کے لیے﴾ لٹکایا کرتے تھے۔ اسے 'ذات انواط' کہا جاتا تھا۔ چنانچہ ہمارا گزر بھی ایک بیری کے درخت کے پاس سے ہوا، تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے لیے بھی مشرکوں کی طرح ایک 'ذات انواط' مقرر کر دیجیے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ اکبر! یہی ﴿گمراہی کے﴾ راستے ہیں۔ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم لوگوں نے بالکل اسی طرح کی بات کہی ہے، جس طرح کی بات بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا: ﴿ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجیے، جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ موسیٰ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔﴾ [الأعراف:۱۳۸] تم لوگ ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کی راہوں پر چل پڑو گے۔" اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورہ النجم کی مذکورہ آیات کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس میں صحابہ کرام کے ذاتِ انواط مقرر کرنے کے مطالبہ کی صحیح توجیہ سمجھ میں آتی ہے ﴿کہ وہ ایسا صرف تبرک کی خاطر کرنا چاہتے تھے۔ اس درخت کو معبود بنانا اُن کا مقصود ہر گز نہیں تھا﴾۔
تیسرا مسئلہ: یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ نے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا۔
چوتھا مسئلہ: اس سے ان کا ارادہ صرف تقربِ الٰہی کا حصول تھا، کیوں کہ اُن کا گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کی باتوں کو پسند فرماتا ہے۔
پانچواں مسئلہ: جب صحابہ کرام سے شرک کی یہ قسم مخفی رہی، تو دوسرے لوگوں کا اس سے نابلد رہنا بدرجۂ اولیٰ قرین قیاس ہے۔
چھٹا مسئلہ: صحابہ کرام کی جو نیکیاں ہیں اور اُن سے بخشش کے جو وعدے کیے گئے ہیں، وہ دوسروں کو حاصل نہیں ہو سکتے۔
ساتواں مسئلہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کو معذور نہیں سمجھا، بلکہ ان الفاظ میں اُن کی تردید کر ڈالی: "اللہ اکبر! یہی تو ﴿گمراہی﴾ کے راستے ہیں! تم بھی پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑو گے۔" چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طرح سے اس سوچ کی مذمت فرمائی۔
آٹھواں مسئلہ: سب سے اہم بات، جو اصل مقصود ہے، یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ ان کی یہ فرمائش بنی اسرائیل کی فرمائش جیسی ہے، جنہوں نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے!
نواں مسئلہ: اس طرح کے تبرک کی نفی 'لا الہ الا اللہ' کے مفہوم میں شامل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ حقیقت بعض صحابہ سے اوجھل اور پوشیدہ رہی۔
دسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتوے پر قسم اٹھائی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مصلحت کے بنا قسم نہیں کھاتے تھے۔
گیارہواں مسئلہ: چوں کہ صحابہ کرام کو ایسا کہنے کی وجہ سے مرتد نہیں سمجھا گیا، اس لیے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شرک بڑا بھی ہوتا ہے اور چھوٹا بھی۔
بارہواں مسئلہ: اُن صحابہ کا یہ کہنا «وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ» ﴿ہم لوگ ابھی نئے نئے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تھے﴾ اس بات کی دلیل ہے کہ دیگر صحابہ کو اس بات کا علم تھا کہ ایسی فرمائش درست نہیں ہے۔
تیرہواں مسئلہ: اظہارِ تعجب کے موقع پر 'اللہ اکبر' کہنے کا جواز ملتا ہے، اور یہ بات ان کے برخلاف ہے، جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔
چودہواں مسئلہ: ﴿شرک وبدعت کے تمام﴾ ذرائع کا سدّ باب ہونا چاہیے۔
پندرہواں مسئلہ: یہاں اہلِ جاہلیت کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
سولہواں مسئلہ: تعلیم کے وقت غصہ ہونے کا جواز۔
سترہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّهَا السُّنَنُ» فرما کر ایک عام اصول بیان کیا ہے۔
اٹھارہواں مسئلہ: یہ آپ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کیونکہ بعد وہی ہوا، جو آپ نے بتایا تھا۔
سترہواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جن باتوں پر یہود ونصاریٰ کی مذمت کی ہے، وہ دراصل ہمارے لئے تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
بیسواں مسئلہ: اہلِ علم کے نزدیک یہ بات طے ہے کہ عبادات امر ﴿حکم﴾ کی بنیاد پر مشروع ہیں۔ اس سے قبر کے سوالوں پر تنبیہ ہوتی ہے۔ جہاں تک «تیرا رب کون ہے؟» کا مسئلہ ہے، تو یہ واضح ہے۔ رہا دوسرا سوال «تیرا نبی کون ہے؟»، تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیبی امور کے حوالے سے خبر دینے سے متعلق ہے اور رہا تیسرا سوال «تمہارا دین کیا ہے؟»، تو اس کا تعلق اس آیتِ کریمہ «اجْعَل لَّنَا إِلَهًا» الخ سے ہے۔
اکیسواں مسئلہ: اہلِ کتاب کے طور طریقے بھی اسی طرح مذموم ہیں، جس طرح مشرکین کے طور طریقے۔
بائیسواں مسئلہ: جو شخص باطل سے تائب ہو کر حق کی طرف آتا ہے، اس کے بارے میں اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں اس کے دل میں قدیم رسوم ورواج اور تصورات کا کچھ اثر باقی نہ رہ جائے، جیسا کہ ابو واقد رضی اللہ عنہ کا قول «وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ» ﴿ابھی ہمارے کفر کے دور سے نکلنے کو زیادہ دن نہیں ہوئے تھے﴾ اس پر دلالت کرتا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس