Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۹ / ۶۷

باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ اللاَّتَ وَالْعُزَّى (۱۹) وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى (۲۰) أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الأُنْثَى (۲۱) تِلْكَ إذًا قِسْمَةٌ ضِيْزَى (۲۲) إنْ هِيَ إلاَّ أسمَاءٌ سَمَّيتُمُوهَا أنتُمْ وءابآؤكُمْ مَا أنزَلَ اللهُ بها مِن سُلْطَانٍ إن يَتَّبِعُونَ إلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْـوَى الأَنْفُسُ ولقَدْ جَآءهُم مِّن رَّبِّهِـمُ الهُدَى﴾ [النَّجْم:۱۹-۲۳]

“کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا، اور منات تیسرے پچھلے کو؟ کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟ یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے۔ دراصل یہ صرف نام ہیں، جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے۔”

ابوواقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کی طرف نکلے۔ ابھی ہمارے کفر کے دور سے نکلنے کو زیادہ دن نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت مشرکوں کے ہاں ایک بیری کا درخت تھا، جس کے پاس وہ ٹھہرتے تھے اور اس پر اپنے ہتھیار ﴿تبرک کے لیے﴾ لٹکایا کرتے تھے۔ اسے 'ذات انواط' کہا جاتا تھا۔ چنانچہ ہمارا گزر بھی ایک بیری کے درخت کے پاس سے ہوا، تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے لیے بھی مشرکوں کی طرح ایک 'ذات انواط' مقرر کر دیجیے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ اکبر! یہی ﴿گمراہی کے﴾ راستے ہیں۔ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم لوگوں نے بالکل اسی طرح کی بات کہی ہے، جس طرح کی بات بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا: ﴿ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجیے، جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ موسیٰ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔﴾ [الأعراف:۱۳۸] تم لوگ ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کی راہوں پر چل پڑو گے۔" اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے۔

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: اس میں سورہ النجم کی مذکورہ آیات کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ: اس میں صحابہ کرام کے ذاتِ انواط مقرر کرنے کے مطالبہ کی صحیح توجیہ سمجھ میں آتی ہے ﴿کہ وہ ایسا صرف تبرک کی خاطر کرنا چاہتے تھے۔ اس درخت کو معبود بنانا اُن کا مقصود ہر گز نہیں تھا﴾۔

تیسرا مسئلہ: یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ نے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا۔

چوتھا مسئلہ: اس سے ان کا ارادہ صرف تقربِ الٰہی کا حصول تھا، کیوں کہ اُن کا گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کی باتوں کو پسند فرماتا ہے۔

پانچواں مسئلہ: جب صحابہ کرام سے شرک کی یہ قسم مخفی رہی، تو دوسرے لوگوں کا اس سے نابلد رہنا بدرجۂ اولیٰ قرین قیاس ہے۔

چھٹا مسئلہ: صحابہ کرام کی جو نیکیاں ہیں اور اُن سے بخشش کے جو وعدے کیے گئے ہیں، وہ دوسروں کو حاصل نہیں ہو سکتے۔

ساتواں مسئلہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کو معذور نہیں سمجھا، بلکہ ان الفاظ میں اُن کی تردید کر ڈالی: "اللہ اکبر! یہی تو ﴿گمراہی﴾ کے راستے ہیں! تم بھی پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑو گے۔" چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طرح سے اس سوچ کی مذمت فرمائی۔

آٹھواں مسئلہ: سب سے اہم بات، جو اصل مقصود ہے، یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ ان کی یہ فرمائش بنی اسرائیل کی فرمائش جیسی ہے، جنہوں نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے!

نواں مسئلہ: اس طرح کے تبرک کی نفی 'لا الہ الا اللہ' کے مفہوم میں شامل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ حقیقت بعض صحابہ سے اوجھل اور پوشیدہ رہی۔

دسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتوے پر قسم اٹھائی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مصلحت کے بنا قسم نہیں کھاتے تھے۔

گیارہواں مسئلہ: چوں کہ صحابہ کرام کو ایسا کہنے کی وجہ سے مرتد نہیں سمجھا گیا، اس لیے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شرک بڑا بھی ہوتا ہے اور چھوٹا بھی۔

بارہواں مسئلہ: اُن صحابہ کا یہ کہنا «وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ» ﴿ہم لوگ ابھی نئے نئے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تھے﴾ اس بات کی دلیل ہے کہ دیگر صحابہ کو اس بات کا علم تھا کہ ایسی فرمائش درست نہیں ہے۔

تیرہواں مسئلہ: اظہارِ تعجب کے موقع پر 'اللہ اکبر' کہنے کا جواز ملتا ہے، اور یہ بات ان کے برخلاف ہے، جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔

چودہواں مسئلہ: ﴿شرک وبدعت کے تمام﴾ ذرائع کا سدّ باب ہونا چاہیے۔

پندرہواں مسئلہ: یہاں اہلِ جاہلیت کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

سولہواں مسئلہ: تعلیم کے وقت غصہ ہونے کا جواز۔

سترہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّهَا السُّنَنُ» فرما کر ایک عام اصول بیان کیا ہے۔

اٹھارہواں مسئلہ: یہ آپ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ کیونکہ بعد وہی ہوا، جو آپ نے بتایا تھا۔

سترہواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جن باتوں پر یہود ونصاریٰ کی مذمت کی ہے، وہ دراصل ہمارے لئے تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

بیسواں مسئلہ: اہلِ علم کے نزدیک یہ بات طے ہے کہ عبادات امر ﴿حکم﴾ کی بنیاد پر مشروع ہیں۔ اس سے قبر کے سوالوں پر تنبیہ ہوتی ہے۔ جہاں تک «تیرا رب کون ہے؟» کا مسئلہ ہے، تو یہ واضح ہے۔ رہا دوسرا سوال «تیرا نبی کون ہے؟»، تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیبی امور کے حوالے سے خبر دینے سے متعلق ہے اور رہا تیسرا سوال «تمہارا دین کیا ہے؟»، تو اس کا تعلق اس آیتِ کریمہ «اجْعَل لَّنَا إِلَهًا» الخ سے ہے۔

اکیسواں مسئلہ: اہلِ کتاب کے طور طریقے بھی اسی طرح مذموم ہیں، جس طرح مشرکین کے طور طریقے۔

بائیسواں مسئلہ: جو شخص باطل سے تائب ہو کر حق کی طرف آتا ہے، اس کے بارے میں اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں اس کے دل میں قدیم رسوم ورواج اور تصورات کا کچھ اثر باقی نہ رہ جائے، جیسا کہ ابو واقد رضی اللہ عنہ کا قول «وَنَحْنُ حُدَثَاءُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ» ﴿ابھی ہمارے کفر کے دور سے نکلنے کو زیادہ دن نہیں ہوئے تھے﴾ اس پر دلالت کرتا ہے۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app