باب ۳۱ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔
مزید فرمایا: ﴿قُلْ إِن كَانَ ءآبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وإخوَانُكُم وأزوَاجُكُم وعَشِيرَتُكُم وأمْوَالٌ اقتَرَفتُمُوهَا وتِجَارةٌ تَخْشَونَ كَسَادَها وَمَسَاكِنُ تَرْضَونَها أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وجِهَادٍ فِي سَبيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتى يَأتِيَ اللهُ بِأمْرِهِ وَاللهُ لا يَهْدِي القَوْمَ الفَاسِقِينَ﴾ [التَّوْبَةُ:۲۴]
“آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا”
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ﴿کامل﴾ مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔" اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔
اور صحیحین ہی میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "تین باتیں ایسی ہیں کہ جس بندہ کے اندر پائی گئیں، اس نے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت ومٹھاس کو پالیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ساری دنیا سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ جس آدمی سے محبت کرتا ہو، اس سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو اور تیسری بات یہ ہے کہ اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کفر سے نکال لیا ہے، ایسے ہی ناپسند ہو، جیسے وہ یہ ناپسند کرتا ہو کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔"
جب کہ ایک دوسری روایت میں ہے: "کوئی شخص ایمان کی چاشنی نہیں پاسکتا، یہاں تک کہ ...۔"
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "جو شخص کسی سے اللہ کے لیے محبت رکھے اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھے، اللہ کے لیے دوستی رکھے اور اللہ ہی کے لیے دشمنی رکھے، تو ﴿یہ جان لو کہ﴾ اللہ کی دوستی انہی امور کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے اور کوئی بھی بندہ ان امور کے بغیر ایمان کی مٹھاس محسوس نہیں کر سکتا، اگرچہ وہ خوب نمازیں پڑھتا ہو اور بکثرت روزے رکھتا ہو۔ یہاں تک کہ اس کی یہی کیفیت ہو جائے، لیکن عام لوگوں کی آپسی محبت دنیوی امور پر منحصر ہو چکی ہے، جب کہ اس سے انھیں کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔" اسے ابنِ جریر نے روایت کیا ہے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانِ باری تعالیٰ ﴿وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ﴾ ﴿قیامت کے روز ان کے سارے اسباب ووسائل ختم ہو جائیں گے﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ 'اسباب ووسائل' سے مراد 'مودّت ومحبت اور دوستی' ہیں۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
سورہ البقرۃ کی ایک آیت کی تفسیر۔
دوسرا مسئلہ: سورۂ توبہ کی بھی ایک آیت کی تفسیر ہوتی ہے۔
تیسرا مسئلہ: اپنی جان، بال وبچوں اور مال ومتاع سے زیادہ محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونی چاہیے۔
چوتھا مسئلہ: ایمان کی نفی سے کسی شخص کے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کی دلیل نہیں ملتی۔
پانچواں مسئلہ: ایمان کی ایک الگ چاشنی ومٹھاس ہوتی ہے، تاہم کبھی انسان کو اس کا احساس ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔
چھٹا مسئلہ: چار قلبی اعمال ایسے ہیں، جن کے بغیر انسان اللہ کی ولایت حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اُن کے بغیر ایمان کا ذائقہ چکھ سکتا ہے۔
ساتواں مسئلہ: صحابیٔ رسول نے اس سچائی کو جانتے تھے کہ عام تعلقات اور بھائی چارے محض دنیا کی خاطر ہوتے ہیں۔
آٹھواں مسئلہ: اس میں آیتِ کریمہ ﴿وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ﴾ ﴿قیامت کے روز ان کے سارے اسباب ووسائل ختم ہو جائیں گے﴾ کی تفسیر موجود ہے۔
نواں مسئلہ: بعض مشرک اللہ تعالیٰ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔
دسواں مسئلہ: جو شخص مذکورہ ﴿باپ بھائی...﴾ آٹھ چیزوں کو دین سے زیادہ محبوب رکھے، اس کے لیے سخت وعید ہے۔
گیارہواں مسئلہ: جو شخص کسی کو اللہ کا شریک بنائے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے برابر محبت رکھے، تو اس کا ایسا کرنا شرکِ اکبر ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175]
← پچھلا باب
باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان