باب ۵۹ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔
نیز فرمایا: ﴿الظَّآنِّينَ بِاللهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وغَضِبَ اللهُ عَلَيهِم ولَعَنَهُم وأعدَّ لهم جَهنَّمَ وسَآءتْ مَصِيرًا﴾ [الْفَتْحُ:۶]
“جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، ﴿دراصل﴾ انہیں پر برائی کا پھیرا ہے، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے دوزخ تیار کی اور وہ ﴿بہت﴾ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔” [سورہ الفتح:۶]۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ پہلی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
«اس بدگمانی کی تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ لوگ یہ گمان کرنے لگے تھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا اوران کی دعوت عنقریب ختم ہو جائے گی اوراس کی تفسیر یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ مسلمانوں پر جو مصیبت آئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قضاو قدر کے مطابق اوراس کی حکمت پر مبنی نہیں ہے۔ اس طرح، اس کی تفسیر یہ ہوئی کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر، حکمت اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کاانکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ دین تمام ادیان پر غالب نہیں آئے گا۔ منافقین اور مشرکین کایہی وہ بُراگمان ہے، جس کاذکر سورہ الفتح میں ہواہے۔ اسے بُراگمان اس لیے کہا گیا ہے، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان و مرتبہ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی حکمت، تعریف، بزرگی اور سچے وعدے سے بھی میل نہیں کھاتا۔»
جو شخص یہ سمجھے کہ اللہ باطل کو حق پر ایسا دائمی تسلط عطا کردے گا کہ حق کی شمع بجھ جائے گی یا اس بات کاانکار کرے کہ جو کچھ ہوا وہ اللہ کی قضاو قدر کے عین مطابق تھا یا اس بات کاانکار کرے کہ اللہ کی قضاو قدر بے پایاں اور قابل ستائش حکمت پر مبنی ہے اور یہ گمان رکھے کہ یہ محض اس کی مشیت پر مبنی ہے، تو یہی کافروں کا گمان ہے، جن کے لیے جہنم کی آگ کا عذاب ہے۔ سچائی یہ ہے اکثر لوگ اپنے اور غیروں سے متعلقہ کاموں میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی رکھتے ہیں اور اس بدگمانی سے صرف وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ، اس کے اسماوصفات اوراس کی حکمت و تعریف کے مقتضی کی واقفیت رکھتے ہیں۔
اس لیے ہر عقل مند شخص، جو اپنی بھلائی کا طلب گار ہو، کو چاہیے کہ وہ مذکورہ بالا تمام باتوں پر توجہ دے اور اللہ کے حضور اپنی اس بدگمانی سے معافی مانگے اور توبہ واستغفار کرے۔
اگر آپ لوگوں سے معلوم کریں، تو پتہ چلے گا کہ اکثر لوگ تقدیر کے بارے میں تعنت کے شکار ہیں اور اس کی ملامت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آئیں گے کہ اگریوں اور یوں ہوتا، تو بہتر ہوتا۔ ان سب باتوں میں کوئی تھوڑا ہی واقع ہوتا ہے اور کوئی بہت زیادہ, تو کوئی زیادہ۔ خود اپنے آپ کا بھی جائزہ لے کر دیکھ لیجیے کہ کیا آپ اس مرض سے محفوظ ہیں؟
«اگر آپ اس سے محفوظ ہیں، تو آپ ایک بہت بڑی مصیبت سے بچے ہوئے ہیں۔ ورنہ میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس سے نجات پانے والے ہیں»
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: نیز سورہ الفتح کی مذکورہ آیت کی بھی تفسیر ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بدگمانی کی بہت سی شکلیں ہیں، جن کا شمار نا ممکن ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس بدگمانی سے وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے اسماوصفات کی پہچان کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کو بھی پہچانتا ہو۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس