صحیحین میں ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ ﴿کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا پٹہ یا کسی بھی قسم کا پٹہ نظر آئے تو اسے کاٹ دیا جائے﴾۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: "جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈے اور میاں بیوی کے بیچ محبت پیدا کرنے کے لئے جادو کرنا سب شرک ہیں۔" اسے امام احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
تمائم: ﴿تمیمہ کی جمع﴾ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے بچوں کے جسم پر لٹکائی یا باندھی جائے۔ تعویذ اگر قرآنی آیات پر مشتمل ہو، تو بعض سلف نے اسے جائز قرار دیا ہے اور بعض نے اس کی بھی اجازت نہ دیتے ہوئے اسے ممنوع قرار دیا ہے، جن میں سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔
رُقَی: ﴿رقیہ کی جمع﴾ انہیں 'عزائم' بھی کہا جاتا ہے۔ ﴿اس سے مراد دم کرنا ہے﴾۔ واضح رہے کہ اس دم کی اجازت ہے اور اس کے جواز کی دلیل موجود ہے، جو شرک سے خالی ہو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظرِ بد اور کسی زہریلے کیڑے کے کاٹے پر دم لینے کی اجازت دی ہے۔
تِوَلَہ: جادو کی ایک قسم ہے، جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بیوی کو شوہر کا اور شوہر کو بیوی کا محبوب بنا دیتی ہے۔
عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے: "جس شخص نے کوئی چیز لٹکائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔" اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اور امام احمد نے رُوَیفع سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے رُوَیفع! شاید تمھاری زندگی دراز ہو۔ لہذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی، تانت کا ہار پہنا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔"
ساتھ ہی سعید بن جبیر کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ﴿جس نے کسی انسان کا ایک تعویذ کاٹ دیا، اسے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔﴾ اسے وکیع نے روایت کیا ہے۔
اور وکیع نے ہی ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: ﴿لوگ قرآن یا غیر قرآن سے ہر قسم کے تعویذ کو حرام قرار دیتے تھے﴾۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں 'رقیہ' ﴿جھاڑ پھونک، دم﴾ اور 'تمیمہ' ﴿تعویذ﴾ کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
دوسرا مسئلہ: 'تِوَلہ' کی بھی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
تیسرا مسئلہ: ﴿رقیہ، تمیمہ اور تِوَلہ﴾ یہ تینوں بلااستثنا شرک ہیں۔
چوتھا مسئلہ: تاہم نظرِ بد اور زہریلے جانوروں کے ڈسنے پر قرآنی آیات اور ثابت دعائیں پڑھ کر دم کرنا شرک میں سے نہیں ہے۔
پانچواں مسئلہ: قرآنی تعویذات کے شرک ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں اہلِ علم کے مابین اختلاف ہے۔
چھٹا مسئلہ: نظرِ بد سے بچنے کے لیے جانوروں کے گلے میں تانت باندھنا بھی شرک ہے۔
ساتواں مسئلہ: اس باب میں تانت باندھنے والوں کے لیے شدید وعید ہے۔
آٹھواں مسئلہ: کسی انسان کے گلے میں باندھے ہوئے تعویذ کو کاٹ پھینکنے والے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
نواں مسئلہ: ابراہیم نخعی کی بات اہلِ علم کے مابین مذکورہ اختلاف کے منافی نہیں ہے، کیونکہ ان کی مراد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا
← پچھلا باب
باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے