امام بخاری نے اپنی 'صحیح' میں قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے: «اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کی تخلیق تین مقاصد کے تحت کی ہے: آسمان کی زینت کے لیے، شیاطین کو مار بھگانے کے لیے اور راہ معلوم کرنے کے لیے۔ نشانیوں کے بطور, جس نے اس کے علاوہ کچھ سمجھا،اس نے غلطی کی اور اپنا نصیب برباد کیااور ایسی چیز کا تکلّف کیا، جس کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں۔» قتادہ کی بات ختم ہوئی۔
«اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کی تخلیق تین مقاصد کے تحت کی ہے: آسمان کی زینت کے لیے،شیاطین کو مار بھگانے کے لیے اور راہ معلوم کرنے کے لیے۔نشانیوں کے بطور, جس نے اس کے علاوہ کچھ سمجھا،اس نے غلطی کی اور اپنا نصیب برباد کیا اور ایسی چیز کا تکلّف کیا، جس کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں۔» قتادہ کی بات ختم ہوئی۔
قتادہ منازلِ قمر ﴿ستاروں کی منزلوں﴾ کا علم حاصل کرنے کو حرام سمجھتے تھے۔ ابن عیینہ نے بھی ایسا علم حاصل کرنے کی چھوٹ نہیں دی ہے۔مذکورہ بات کو حرب نے دونوں سے نقل کیا ہے۔تاہم احمد اور اسحاق نے ان منازل کا علم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔
اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین طرح کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہونے پائیں گے: شراب نوشی کے عادی، رشتے ناطے کو توڑنے والے اور جادو گر کی تصدیق کرنے والے۔" اس حدیث کو احمد نے اور ابن حبان نے اپنی 'صحیح' میں کیا ہے۔
«تین طرح کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہونے پائیں گے: شراب نوشی کے عادی، رشتے ناطے کو توڑنے والے اور جادو گر کی تصدیق کرنے والے۔» اس حدیث کو احمد نے اور ابن حبان نے اپنی 'صحیح' میں کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس سے ستاروں کی تخلیق کی حکمت معلوم ہوتی ہے۔
دوسرا مسئلہ: ان لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے، جو اس کے سوا کچھ اور سوچتے ہیں۔
تیسرا مسئلہ: ستاروں کے منازل کا علم حاصل کرنے کے بارے میں اختلاف کا ذکر ہے۔
چوتھا مسئلہ: جادو کے کسی حصے کی تصدیق کرنے کی وعید، اگرچہ وہ جانتا ہو کہ یہ ایک باطل چیز ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان
← پچھلا باب
باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان