باب ۳۸ / ۶۷
باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا
ابن عباس فرماتے ہیں: «اگر تمہاری یہی حالت رہی ہے تو عنقریب ہی تم پر آسمان سے پتھر برسیں گے! میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سناتا ہوں اور تم اس کے سامنے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے اقوال بیان کرتے ہو!» امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: «اُن لوگوں پر مجھے تعجب ہے، جو حدیث کی سندیں اور اس کی صحت سے واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود سفیان ثوری کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ حالاں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النُّورُ:۶۳]
“سنو! جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست فتنہ نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچ جائے”
جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ سنو! اس سے مراد «شرک» ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جو انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ دے، اس کے دل میں کجی آ جائے اور وہ ہلاک ہو جائے۔» اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیتِ کریمہ پڑھتے ہوئے سنا: ﴿اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللهِ وَالمَسِيحَ ابنَ مَرْيمَ وَمَا أُمِرُوا إلاَّ لِيعبُدوا إلهًا وَاحِدًا لا إلهَ إلاَّ هُوَ سُبحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [التَّوْبَةُ: ۳۱]
“ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے”
عدی کہتے ہیں کہ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا ایسا نہیں ہے کہ تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو ان کے کہنے پر حرام اور اُس کی حرام کردہ چیزوں کو اُن کے کہنے پر حلال سمجھتے ہو؟" انھوں نے جواب دیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہی توان کی عبادت ہے۔" اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ساتھ ہی ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ساتھ ہی ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورہ النور کی اُس آیت کی تفسیر ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی سے ڈرایا گیا ہے۔
دوسرا مسئلہ: نیز سورہ براءت کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے جس میں علما اور صالحین کو رب بنانے والوں کا ذکر ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس میں اُس عبادت، جس کا عدی رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تھا, کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس سے پتہ چلتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل کسی کے قول کو پیش نہیں کیا جاسکتا، خواہ اس کا مقام کتنا ہی بلند اور ارفع کیوں نہ ہو، جیسا کہ اس تعلق سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابو بکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سفیان ثوری کی شخصیات کو بطور مثال پیش کیا تھا۔
پانچواں مسئلہ: اس میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ اب حالات بے حد تک بدل ہو چکے ہیں کہ اکثر عوام کے نزدیک بزرگوں کی عبادت افضل ترین عمل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اسے ولایت کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح اہلِ علم کی بھی عبادت ہوتی ہے جسی علم و فقہ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ پھر اس قدر حالات بدلے کہ اللہ کے سوا ان کی بھی پرستش ہونے لگی, جو نیکو کار نہ تھے اور یہاں پر مذکور عبادت کے دوسرے معنی (یعنی علما کی عبادت) کے اعتبار سے, ان کی بھی عبادت ہونے لگی، جو اصحابِ علم نہیں بلکہ بالکل جاہل تھے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾
← پچھلا باب
باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے