باب ۴۵ / ۶۷
باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی
اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَقَالُواْ مَا هِيَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلاَّ الدَّهْرُ وَمَا لهُم بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إنْ هُمْ إلاَّ يَظُنُّونَ﴾ [الْجَاثِيَةُ:۲۴]
“انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے۔ ﴿دراصل﴾ انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں ہے۔ یہ تو صرف ﴿قیاس اور﴾ اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں”
صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم زمانے کو گالیاں دے کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے؛ کیونکہ میں ہی زمانہ ﴿کا خالق اور مالک﴾ ہوں۔ دن اور رات کو میں ہی تبدیل کرتا ہوں۔"
ایک دوسری روایت میں ہے: "تم زمانے کو بُرا بھلا نہ کہو، کیوں کہ در اصل اللہ ہی زمانہ ﴿کا خالق اور مالک﴾ ہے۔"
اس باب کے کچھ اہم مسائل
زمانے کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔
زمانے کو بُرا بھلا کہنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو ایذا پہنچانے سے تعبیر کیا ہے۔
حدیث قدسی کے الفاظ: «فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ» پر غور کرنا چاہیے۔
بسا اوقات انسان بلا قصد و ارادہ سبّ و شتم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم
← پچھلا باب
باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم