باب ۳۳ / ۶۷
باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23]
نیز فرمایا: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإذَا تُلِيتْ عَلَيهِمْ آيَاتُهُ زَادَتهم إيمَانًا وعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ [الأَنْفَالُ:۲]
“بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے، تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں، تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں”
نیز فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللهُ ومَن اتَّبَعكَ مِنَ المُؤمِنِينَ﴾ [الأَنْفَالُ:۶۴]
“اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مؤمنوں کو، جو تیری پیروی کر رہے ہیں”
نیز فرمایا: ﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾ [الطَّلاَقُ:۳]
“جو شخص اللہ پر توکل کرے گا، اللہ اسے کافی ہوگا”
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
«حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔
یہ جملہ ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جب وہ آگ میں ڈالے گئے تھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا، جس وقت لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا:
﴿حَسْبُنا اللهُ ونِعْمَ الوكيلُ﴾ قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالُوا لَهُ: ﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ ونِعْمَ الوَكِيلُ﴾ [آل عِمْرَانَ:۱۷۳]
“وہ لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لیے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ، تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے”
اسے بخاری اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: توکل، ایک دینی فریضہ ہے۔
دوسرا مسئلہ: توکل ایمان کی ایک شرط ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس میں سورۃ انفال کی آیت کی تفسیر ہے ﴿جس میں اہلِ ایمان کی صفات کا ذکر ہے﴾۔
چوتھا مسئلہ: اس آیت کی تفسیر، آیت کے آخری حصہ ﴿وعلی ربھم یتوکلون﴾ میں ہی موجود ہے۔
پانچواں مسئلہ: اس میں سورہ طلاق کی آیت کی تفسیر ہے ﴿جس میں ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والوں کے لیے اللہ ہی کافی ہے﴾۔
چھٹا مسئلہ: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» کی عظمت واہمیت کا علم۔ اور اس بات کا علم کہ یہ ایسا ذکر ہے، جس کا ورد پیغمبر ابراہیم علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید مشکل حالات اور پریشانی کے وقت کیا تھا۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175]